ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ممبئی آزاد میدان میں مسلم، او بی سی اور مراٹھا ریزرویشن سمیت مختلف مانگ کو لے کر احتجاجی مظاہرہ؛سینکڑوں کارکنان گرفتار

ممبئی آزاد میدان میں مسلم، او بی سی اور مراٹھا ریزرویشن سمیت مختلف مانگ کو لے کر احتجاجی مظاہرہ؛سینکڑوں کارکنان گرفتار

Tue, 06 Jul 2021 23:43:33    S.O. News Service

ممبئی 6 جولائی  (پریس ریلیز) مہاراشٹرا اسمبلی کے اجلاس کے پہلے ہی دن ونچیت بہوجن آگھاڑی اور رضااکیڈمی کی جانب سے مسلم ریزرویشن اور محمد ﷺ و دیگر مذہبی رہنماء بل کی مانگ کو لے کر احتجاجی مورچہ کا انعقاد عمل میں آیا۔ مانسون سیشن سے قبل ونچیت بہوجن آگھاڑی کے قومی صدر پرکاش امبیڈکر کی جانب سے مانگ کی گئی تھی کہ پیغمبر محمدﷺ بل اور مسلم ریزرویشن کو منظور کیا جائے،اگر اسے منظور نہیں کیا گیا تو احتجاجی مظاہرہ اور ریاستی اسمبلی کا محاصرہ کرنے کا  انتباہ دیا گیا تھا۔

اس کے بعد سے ہی ممبئی پولس متحرک ہوگئی تھی۔ جس کا اثریہ ہوا کے ممبئی پولس نے ممبئی میں ونچیت بہوجن آگھاڑی کے تمام کارکنان اور عہدے داروں کو ناکہ بندی کے دوران صبح ہی  حراست میں لے لیا۔ جو علمائے کرام بھی آزاد میدان کی طرف آرہے تھے انھیں پولس نے روک دیا۔ صبح ۱۱بجے سنی بلال مسجد کے سامنے سے مولانا  سید معین میاں اور محمدسعید نوری کے ہمراہ دیگر سینکڑوں علمائے دین کو پولس کے اعلیٰ قائدین نے آزاد میدان کی جانب جانے سے روک دیا۔جس کی وجہ سے علمائے کرام مورچے میں شامل نہ ہوسکے۔

ونچیت بہوجن آگھاڑی کے ذمہ داروں نے پولیس کاروائی کے طریق کار کو سمجھتے ہوئے  منظم طریقے سے چھپتے ہوئے طئے شدہ وقت پر سینکڑوں کارکنان کے ساتھ آزاد میدان پہچنے میں کامیاب ہوگئے۔ آزاد میدان، جہاں پہلے سے ہی پولس نے معقول بندوبست کا انتظام کر رکھا تھا، ونچیت بہوجن آگھاڑی کے ریاستی ترجمان فاروق احمد، ریاستی قائد ریکھا تائی ٹھاکور کے وہاں پہنتے ہی کارکنان کی جانب سے حکومت کے اس رویہ کے خلاف زور دار نعرے بازی کی گئی اور مسلم ریزرویشن نہ دینے اور محمد ﷺ بل کے نفاذ  پر حکومت کے غیر سنجیدہ رویہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔ جس کے بعد وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے فاروق احمد، ریکھا تائی ٹھاکور،دشا پنکی شیخ، گوند دلوی، سدھارتھ موکلے، سروجیت بنسوڑے، نلیش وشوکر ما، ابوالحسن، عالم گیر خان، شاکر تمبولی، ایڈوکیٹ بڑے خان، حمید شیخ، الیاس علی قاضی،اقبال منیار، سلیم صدیقی،عبید باحسین، شیخ شبیر، جنید عطار، شیخ مبین، عظیم تمبولی،جاوید پٹیل، شیخ مقیم،شمیبھا پاٹل کے ہمرا ہ سینکڑوں کارکنان کو گرفتار کرتے ہوئے  یلو گیٹ پولس اسٹیشن و دیگر جگہوں پر لے جاکر حراست میں رکھا۔

حراست میں لئے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے ونچیت بہوجن آگھاڑی کے ذمہ داروں نے یلو گیٹ پولس اسٹیشن میں ہی احتجاج شروع کردیا، زور دار نعرے بازی کی گئی او روہاں موجود قائدین نے اپنے کارکنان کو مخاطب کرکے مہاراشٹرا  حکومت کے خلاف سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے اپنے خطابات کئے۔ اس کو دیکھتے ہوئے پولس نے آخر دوپہر ۳بجے کے قریب ایک خصوصی وین میں فاروق احمد اور ریکھاتائی ٹھاکور کو آزاد میدان پولس کے حوالے کیا، وہاں سے انھیں ودھان بھون لے جایا گیا۔ممبئی پولیس کی جانب سے رضا اکیدمی کے محمد سعید نوری،مولانا  عباس رضوی اور ابراھیم لاکھا کوبھی ودھان بھون لایا گیا۔ کچھ ہی دیربعد وزیر برائے اقلیتی بہود نواب ملک وہاں پہنچے اور انھوں نے ونچیت بہوجن آگھاڑی اوررضا اکیدمی کے وفد سے کہا کہ اسمبلی کا سیشن چل رہا ہے، اس لئے وزیر اعلیٰ وہاں مصروف ہیں اور انھوں نے مجھے ذمہ دار بناکر بھیجا ہے۔ اس پر سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے ونچیت بہوجن آگھاڑی کے وفد نے اقلیتی وزیر نواب ملک سے دو ٹوک کہا کہ آپ دو سالوں سے اقلیتی وزیر ہیں اورکسی بھی طرح سے اہل نہیں کہ آپ اس مسئلہ کا حل کرسکے۔ ہمیں یہاں پولس نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کے لئے لایا تھا، اگر انھیں وقت نہیں ہے تو ہم نا اہل وزیر سے ملنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ یہ کہہ کر فاروق احمد اور ریکھا تائی ٹھاکور وہاں سے چلے گئے۔ بعدازاں رضا اکیدمی کے ذمہ داروں نے وزیر برائے اقلیتی بہود نواب ملک سے ملاقات کی اور انھیں دونوں مسائل سے آشنا کرایا۔ اس پر وزیر نواب ملک نے یقین دلایا کہ  وہ اس معاملے کو وزیر اعلیٰ کے سامنے پیش کر ینگیں۔

فاروق احمدنے اپنے اخبار ی بیان میں کہا ہے کہ پولس کی رکاوٹوں کے باوجود ونچیت بہوجن آگھاڑی کے سینکڑوں کارکنان نے آزاد میدان پہنچ کر احتجاج کیا، حالانکہ انھیں پولس نے اپنی تحویل میں لے کر یلو گیٹ پولس اسٹیشن لے گئی اور شام کو نام پتہ لکھنے کے بعدقانونی کاروائی کر کے انھیں چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ  پولیس نے ونچیت بہوجن آگھاڑی کے قائدین کوگزشتہ رات سے ہی نظر بند رکھا اور انھیں آزاد میدان پہنچنے سے روکنے شیواجی نگر، ڈی بی مارگ و دیگر پولس اسٹیشن کے حدود میں ناکہ بندی کر کے حراست میں لیا۔ باوجود اس کے سینکڑوں کارکنان آزاد میدان پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم اس طرح کی کاروائیوں سے ڈرنے والے نہیں ہے۔ ہم اس ناانصافی اور سماج کے مطالبات کے لئے مسلسل جدوجہد جاری رکھیں گے۔ 


Share: